تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں بہت سے قابل ذکر حکمرانوں کا تذکرہ ملتا ہے۔برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس کے گزشتہ ایک ہزار سال انتہائی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ جن میں بہت سے جرّار جرنیلوں اور خاندانوں نے حکومت کی۔1001ء کا آغاز ہندوستان میں محمود غزنوی  کے حملوں سے ہوا۔ ہندوستان کی اس ایک ہزار سالہ تاریخ میں غزنوی ، مغل ، لودھی اور تغلق خاندان اور پھر آخر میں انگریز وں کی حکومت رہی۔ ان تمام حکومتوں اور حکمرانوں میں ایک ایسا نڈر اور معروف حکمران بھی تھا جس کا دور حکومت تو محض 5 سال اور چند ماہ ہی تھا مگر اس قلیل عرصہ میں اس نے نہ صرف اپنے علاقے اور رعایا کی بھرپور خدمت کی بلکہ مغل بادشاہ ہمایوں جیسے مضبوط حکمران کو بھی شکست دی۔ یہ حکمران شیر شاہ سوری ہے جس کا اصل نام فرید خان تھا۔

شیر شاہ سوری کے عظیم کارناموں میں ڈاک کا موثر نظام اور جرنیلی سڑک یعنی GT Roadکی تعمیر نو نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ شاہ شاہ سوری چونکہ ایک جنگجو حکمران تھا اس لئے اس نے دفاعی نقطہ نگاہ سے بعض قلعے بھی تعمیر کرائے۔ جن میں سے ایک معروف قلعہ روہتاس ہے جو پاکستان کے ضلع جہلم میں موجود ہے۔

شیر شاہ سوری نے جب مغل بادشاہ ہمایوں کو شکست دی اور اسے ہندوستان بدر کر دیا تو اسے ایک ایسے قلعے کی ضرورت محسوس ہوئی  جو نہ صرف مغل حکمران کی واپسی کو روک سکے بلکہ جس کی مدد سے مغلوں کے ساتھی یعنی گکھڑوں پر بھی نظر رکھی جا سکے۔ لہٰذا قلعہ کی تعمیر کے لئے مختلف علاقوں کا جائزہ لیا گیا اور بالآخر ٹلہ بلناتھ کے علاقے میں جس کے قریب سے دریائے کاہان بھی گزرتا تھا،ایک موزوں جگہ کا انتخاب کر لیا گیا۔

تاریخ میں اگر اس قلعہ کا ذکر ڈھونڈا جائے تو ایک انگریز تاجر William Finchاس قلعہ کا ذکر Early Travels in Indiaمیں کرتا نظر آتا ہے۔ اس نے اس قلعہ کاایک اونچے پہاڑ پر ہونے کا ذکر کیاہے۔

1541ء میں شیر شاہ سوری نے اپنے انتہائی قابل وزیر خزانہ ٹوڈر مل کو چیف سول انجینئر بنا کر قلعہ کی تعمیر شروع کرانے کا حکم دیااوراس کی حفاظت کے لئے اپنے دو انتہائی قابل جرنیل ، خواص خان اور ھیبت خان کی ڈیوٹی لگائی۔ خواص خان ایک انتہائی قابل Administratorتھا جو کہ بعد میں قلعہ کا گورنر بھی بنا۔ روہتاس قلعہ کا مرکزی دروازہ بھی اس کے نام پر  خواص خانی دروازہ کہلاتا ہے۔

قلعہ روہتاس کی تعمیر ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ گکھڑوں نے اس کی دیواروں کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔ شیر شاہ سوری کو جب اس بات کا علم ہوا تو اس نے ٹوڈر مل کو قلعہ کی تعمیر کا کام جلد از جلد مکمل کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی بجٹ میں بھی اضافہ کر دیا۔ کہاجاتاہے کہ اُس دور میں ایک اینٹ کی قیمت ایک سونے کی اشرفی کے برابر ادا کر کے قلعہ کی تعمیر مکمل کی گئی تھی ۔

1543ء میں جب شیر شاہ سوری نے قلعہ کا معائنہ کیا تو اسے تسلی بخش نہ پایا اور اس کی چار دیواری کو مزید وسعت دینے کا حکم دیا۔ چھوٹا اندرونی قلعہ جو پہلے تعمیر کیا گیا تھا وہ اندر کوٹ کے نام سے جانا جاتا ہے جسے بعد ازاں گورنر کی رہائش گاہ میں تبدیل کر دیا گیا ۔

جہاں تک اس قلعہ کی طرزِ تعمیر کا تعلق ہے تو یہ دیگر قلعوں سے کچھ مختلف دکھائی دیتا ہے۔ اس کی تعمیر میں چھوٹی اینٹ کی بجائے بڑے پتھر استعمال کئے گئے ہیں۔

24مئی1545ء کو شیر شاہ سوری راجستھان کے علاقے میں دوران جنگ ہلاک ہو گیا اور اس کے بعد قلعہ روہتاس بھی اپنی شناخت کھونے لگا۔ آہستہ آہستہ یہ دشمنوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ اس قلعہ پر مختلف ادوار میں مختلف حکمرانوں نے قبضہ کیا۔ اپریل1837ء میں جب سکھ راجہ ہری سنگھ نلوا کی وفات ہوئی تو اس کے بعد سے آج تک یہ قلعہ محض ایک اہم سیاحتی مقام کے طور پر ہی جانا جاتا ہے۔

The main entrance of the fort built by Sher shah suri
The main entrance of the fort

تقریباً 400ایکڑ پر محیط یہ شاندار قلعہ اپنے احاطہ میں بہت سی عمارات بھی رکھتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر تو اب کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں مگر چند ایک کے آثار آج بھی موجود ہیں۔

            مغل بادشاہ اکبر کے دور میں قلعہ روہتاس کی نگرانی اس کے ایک قابل جرنیل راجہ مان سنگھ کے سپرد رہی جس نے قلعہ کے اندر ایک خوبصورت محل تعمیر کرایا۔ بدقسمتی سے آج اس محل کی چند سیڑھیاں اور گنبد ہی باقی رہ گئے ہیں۔

            اس قلعہ کے 12دروازے ہیں، جن کی تعمیر جنگی حکمت عملی کو مد نظر رکھتے ہوئے کی گئی تھی۔ یہ تمام دروازے اعلیٰ فن تعمیر کا ایک نادر نمونہ ہیں۔ ان دروازوں میں مرکزی دروازہ یعنی خواص خوانی دروازہ، شیش دروازی، لنگر خوانی دروازہ، سہل دروازہ وغیرہ شامل ہیں۔

            خواص خوانی دروازہ اگر بغور دیکھا جائے تو اس کے اوپر 3سوراخ نظر آتے ہیں۔ پرانے وقتوں میں اگر دشمن دروازے پر پہنچ جاتا تو ان سوراخوں کے ذریعہ گرم پانی یا تیل دشمن پر انڈیلا جاتا تھا۔

            قلعہ روہتاس کا سب سے قابل دید اور حیران کن حصہ اس کی فصیل ہے۔ اس پر تقریباً 68برج، 184برجیاں ، 6881کنگرے اور تقریباً 8556سیڑھیاں ہیں۔ قلعے کے برج نہ صرف اس کی خوبصورتی بلکہ اس کی مضبوطی اور دفاعی حصار کو بھی ناقابل تسخیر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

            قلعہ کے احاطہ میں ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد بھی موجود ہے۔ یہ مسجد کابلی دروازہ کے قریب واقع ہے۔ یہ مسجد صرف ایک کمرہ اور ایک صحن پر مشتمل ہے۔

            قلعہ میں دو باؤلیاں آج بھی موجود ہیں۔ بڑی باؤلی موری گیٹ کے قریب واقع ہے جس کی گہرائی تقریباً 270فٹ ہے اور اِس میں اترنے کے لئے تقریباً 300سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔

            1820ء کی دہائی میں جب یہ قلعہ سکھوں کے قبضہ میں تھا ، ایک انگریز William Moorcroftکا اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ اس قلعہ کے نزدیک سے گزر ہوا۔ Moorcroftاس علاقہ میں ایسے شاندار قلعہ کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس نے قلعہ کے اندر آنے کی اجازت چاہی جو کہ نہ دی گئی ۔ اس پر وہ اور اس کے ساتھی لنگر خانی دروازہ پر چڑھتے ہوئے قلعہ میں داخل ہو گئے اور اس کی عظیم الشان   فن تعمیر کو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

            یہ قلعہ اپنی چار دیواری کے باہر بھی چند تاریخی عمارات سموئے ہوئے ہے جن میں سے ایک راجو گاؤں ہے۔ قلعہ کے ساتھ ہی بہنے والی ندی کے پاس یہ گاؤں اپنی الگ تاریخ رکھتا ہے جس سے بہت سے لوگ ناواقف ہیں۔ اس گاؤں میں ایک اونچے

the deep walls of the fort
the depth of its walls

مگر تباہ شدہ دروازہ کے ذریعہ داخل ہوا جا سکتا ہے۔ گاؤں میں چند پرانی عمارتیں دیکھنے کو ملتی ہیں جن کے متعلق عام خیال یہی ہے کہ یہ شیر شاہ سوری کا پھانسی گھاٹ تھا تاہم تاریخ سے اس کا  ثبوت نہیں ملتا۔ دراصل یہ کمر ےمغلیہ دور حکومت میں مہمان خانہ کی غرض سے تعمیر  کئے گئے تھے  ۔ ان میں سے ایک کمرہ آج بھی مقامی لوگوں کے زیر استعمال ہے جبکہ باقی کمرے یا تو مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں یا ان کی از سر نو تعمیر ہو چکی ہے۔ اس سے آگے کچھ فاصلے پر ایک اور چھوٹی، بوسیدہ حال عمارت بھی نظر آتی ہے جس میں محراب نمایاں ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ  یہ مغلیہ دور کی مسجد ہے جو کہ اب ایک اصطبل میں تبدیل ہو چکی ہے ۔

            روہتاس قلعہ کے باہر ایک تاریخی مقبرہ بھی موجود ہے جو کہ مقبرہ خیر النساء کے نام سےمشہورہے۔ خیر النساء دراصل شیر شاہ سوری کے وزیر خوراک قادر بخش کی بیٹی تھی۔قلعہ روہتاس کی تعمیر کے دوران قادر بخش بھی ڈیوٹی پر مامور تھا اور اس کی فیملی بھی وہیں رہائش پذیر تھی۔ قلعہ کی تعمیر کے دوران ہی خیر النساء کی وفات ہوئی اور یہ مقبرہ اندازًا 16ویں صدی اور 17ویں صدی کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا۔

            1997ء میں قلعہ روہتاس کو World Heritage Centreقرار دے دیا گیا، جس کے نتیجے میں اس تاریخی ورثہ کو محفوظ بنانے کے اقدامات کئے گئے۔

            اب قلعہ ایک اندر ایک نئی دنیا آباد ہے۔ ایک ہائی سکول موجود ہے۔

بد قسمتی سے یہاں کے مقامی باشندوں نے اس کے تاریخی اور منفرد پتھر اکھیڑ اکھیڑ کر استعمال کرنا شروع کر دئیے ہیں جس کے باعث یہ قلعہ نہ صرف اپنی خوبصورتی بلکہ اپنا اصل وجود بھی کھوتا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تاریخی اور قومی ورثہ کی بھرپور حفاظت کی جائے تاکہ یہ قلعہ ہمیں اپنی تاریخ  سے منسلک  رکھے ۔

 

 

           

(Visited 11 times, 1 visits today)