Nandana Fort “One Observatory of Al-Beruni”

Nandana Fort “One Observatory of Al-Beruni”

وہ وقت جسے اسلام کا سنہری دور کہا جاتا ہے ، اس دور میں مسلمان علوم و فنون کے آسمان پر سورج کی طرح چمکتے رہے۔اسلام کے اسی دور میں تجرباتی اور مقداری سائنس کی بنیاد رکھی گئی اور اسی بنیاد پر آج کی جدید سائنس کی بنیادیں استوار کی گئیں۔ مسلمان ہنر مندوں اور سائنسدانوں ؛ شہزادوں اور مزدوروں نے یکجا ہو کر ایک ایسا منفرد تمدن تخلیق کیا جو ہر   بر اعظم پر معاشروں کو بالواسطہ اور بلاواسطہ متاثر کر چکا ہے اور آج بھی کر رہا ہے ۔ اسلامی عہد ذریں وہ دور تھا جب مسلمانوں نے فلسفہ ۔ منطق۔ اخلاقیات۔ طب۔ سائنس۔ ریاضی ۔ علم فلکیات اور فن تعمیر میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔ عرب دنیا میں انہی مسلم مفکرین کے علوم کی وجہ سے یورپ میں نشاۃ ثانیہ اور عہد روشن خیالی کی بنیاد پڑی۔

تاریخ میں ایسے بے شمار مسلمان سائنسدانوں کے نام ملتے ہیں جنہوں نے بے شمار ایجادات کیں اور دنیا میں مسلمانوں اور اسلام کا نام روشن کیا۔ انہی میں سے ایک سائنسدان  ابوریحان البیرونی  نے بل کھاتے راستوں سے گزرتے پہاڑوں کے بیچ نندنا کی چوٹی پر بیٹھ کر  تقریباً1000 سال قبل  سائنس کی دنیا کا ایک ایسا معرکہ سرانجام  دیا جو آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔

بر صغیر میں قیام کے دوران البیرونی کا سب سے مشہور کام کتاب الہند یا تاریخ الہند لکھنا تھا جس میں انھوں نے برصغیر کے باشندوں کے عقائد ، تہذیب اور ثقافت سے متعلق تحقیق کی جو ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئی۔سر سبزو شاداب پہاڑوں کے درمیان  ایک قدیم تہذیب کے شہر کے کھنڈرات کو وقت نے مٹی کا حصہ بنا ڈالا ہے۔ جنوب مشرق کی طرف نگاہ دوڑائیں تو بدھ مندر کے اونچے کھنڈرات  اور باقیات پرانے بدھ شہر کی یاد دلاتے ہیں۔ داخلی راستہ کے دائیں جانب نہ ہموار چوٹی پر ہندو مندر اور اسکے عقب میں مسجد کے کھنڈرات اپنے اپنے دور کی سلطنتوں کے معبدخانوں اور ان کے عابدوں کا پتہ دیتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ انہی رستوں پر چل کر  البیرونی نندنہ شہر میں داخل ہوئے۔

نندنا فورٹ  جہاں  البرونی نے زمین کےrsdiusاور  circumfrence کو درست طریق سے ماپا تھا ،دراصل  ہندو شاہی خاندان کے عہد کی باقیات میں سے ایک ہے۔انسانی تاریخ  میں بعض ایسی عظیم ہستیاں بھی گزری ہیں جن کے کارنامے انہیں نہ صرف ان کے دور کے لئے بلکہ آج تک علم و عرفان کے آسمان کا روشن ستارہ بنا گئے ہیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت البیرونی ہیں جن کو گزرے  تقریبا ایک ہزار سال  بیت گئے  مگر وہ ریاضی، علم فلکیات، طبیعات ، جغرافیہ، تاریخ و فلسفہ پر اسلامی علوم کے سنہری دور کی ایک ایسی چھاپ چھوڑ گئے جس کو مٹانا آج بھی ناممکن ہے۔

البیرونی کے  نندانہ کے مقام سے کیے گئے مشاہدوں اور جیومیٹری پر عبور حاصل ہونے کے باعث زمین کے قطرکی پیمائش ایک بڑی کامیابی تھی۔ان کی زمین کی حرکت اور اس کی رفتار کی درست پیمائش بھی ایک کارنامے سے کم نہیں تھا ۔

البیرونی نہ صرف اسلامی دنیا میں بلکہ بلا شبہ تمام ادوار میں نمایاں سائنسدانوں میں ایک مقام رکھتے ہیں ۔ البیرونی کے سائنسی انکشافات کی  کی  کمال درستگی  ان کو اپنے زمانہ سے بہت آگے کا انسان ثابت کرتے ہیں۔

زمین کا قطر ناپنے کے اس نئے طریق کا خیال البیرونی کودراصل  اس مقام کو دیکھ کر ہی آیا تھا۔ الغرض جب مغرب جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا  ہوا تھا مسلمان سائنسدان جدید علوم کی بنیادیں تعمیر کرنے میں سرگرداں تھے۔