چینی کی تیاری اور اسکی مختصر تاریخ

چینی کی تیاری اور اسکی مختصر تاریخ

ہماری روزمرہ  غذائی  ضروریات  کو پورا کرنے کے لئے  مختلف  غزائی اجزاء اہم کردار  ادا کرتے  ہیں، جن میں سے  نشاستہ  یعنی کاربوہائیڈریٹس کی ضرورت سب سے زیادہ  ہے۔ پودوں  میں گنا  اور چقندر سب سے زیادہ  گلوکوز کے حامل ہوتے ہیں، جن سے حاصل ہونے والے رس  کو مختلف  مراحل سے  گزار کر چینی  تیار کی جاتی  ہے۔ ہم اپنی  روزمرہ کھانے پینے کی اشیاء  میں چینی  کا استعمال کرتے ہیں  جیسے  چائے، ڈبہ  کے  جوسز  اور بیکری  مصنوعات  وغیرہ۔

            کہا جاتا ہے  کہ گنا  کی سب سے پہلی کاشت بحرالکاہل کے علاقہ پولینیسا پر کی گئی  جس کے بعد یہ برصغیر تک پھیلا۔ پانچ سو دس  قبل مسیح  میں فارس  کے بادشاہ دارا نے جب ہندوستان  پر قبضہ کیا تو اس نے ایک میٹھے رس والے  سر کنڈے  کو دیکھا جس کارس  شہد کی مکھیوں کا بنا ہوا نہ تھا۔اس نے اس کو  ایک راز رکھا اور میٹھا  سرکنڈا جو کہ دراصل  گنا ہی تھا ہندوستان  سے فارس لاکر کاشت کیا۔ وقت  گزرتاچلا گیا اور بالآخر یہ راز  عربوں نے  چھ سو بیالیس سن عیسوی میں فارس  پہ حملہ کرنے کے نتیجہ میں کھول دیا۔ یہ وہ دور تھا  جب عرب زراعت  کے میدان  میں تیزی  سے ترقی کر رہے تھے۔ انہوں نے فارس  میں گنا کی کاشت  اور اس دور میں  چینی بنانے کا طریقہ  اخذکیا۔ عربوں  نے نہ صرف  فارس  بلکہ شمالی افریقہ  اور سپین  وغیرہ  کے علاقے فتح کئے اور  ان میں  گنا  کی کاشت  کو پھیلا دیا۔

            جہاں  تک  مغربی یورپ کے رہنے والوں کا تعلق ہے تو  انہوں نے  تقریباً گیارھویں  سن عیسوی میں صلیبی  جنگوں  کے نتیجہ  میں چینی  کو دریافت کیا۔ برطانیہ  میں چینی  کا وجود دس سو ننانوے سن عیسوی میں ملتا ہے۔ پندرھویں  سن عیسوی  میں جب  کولمبس  نےامریکہ  دریافت  کیا تو یہ بات  بھی تاریخ میں ملتی  ہے کہ  چودہ سو ترانوے میں  اس نے گنا  کو کیریبین ممالک میں کاشت  کیا۔ اس کی  ایک بڑی  وجہ  اس علاقہ  کا گرم موسم تھا جو کہ گنا  کےلئے نہایت  موزوں ہے۔ چینی کی صنعت  ترقی کرتی چلی گئی ۔  سترہ سو پچاس سن عیسوی تک برطانیہ  میں قریباً  ایک سو بیس  چینی کے کارخانے قائم ہوچکے تھے۔ چینی کی صنعت  میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب سترہ سو سنتالیس سن عیسوی میں چقندر  کے ذریعہ  چینی حاصل کرنا شروع کر دی گئی۔

            دور حاضر میں  چینی کی صنعت  تقریباً دنیا بھر کے  ایک سو اکیس  ممالک میں پھیل چکی ہے۔ مجموعی  طور پر  دنیا  بھر میں  چینی  کی کل سالانہ  پیداوار  ایک سو بیس  ملین  ٹن  سے تجاوز کر چکی ہے۔ چینی  کی پیداوار سب سے زیادہ  برازیل  اور بھارت  میں کی جارہی ہے۔ پاکستان  گنا کی پیداوار  کے لحاظ  سے دنیا  کا پانچواں جبکہ  چینی  کی پیدوار  کے لحاظ سے پندرھواں ملک ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا نہری  نظام پاکستان   میں موجود ہے جس کی بدولت  اس کا شمار  اچھے زرعی  ممالک  میں کیا جاتا ہے۔ جغرافیائی  لحاظ  سے بھی پاکستان  گنا کی  کاشت  کے اعتبار  سے ایک موزوں  ملک ہے۔ گنا بنیادی  طور پر گرم  اور خشک علاقہ کی فصل ہے جہاں پانی اور  سورج کی دھوپ اچھی  مقدار میں میسر  ہو۔ گنا  کی فصل  مکمل تیا ر ہونے  میں  تقریباً چھ سے بارہ  ماہ تک کا عرصہ  لگ جاتا ہے۔

            پاکستان  میں چینی  بنانے کے لئے  کئی شوگر ملز موجود ہیں۔ سب سےپہلے گنا کو کھیتوں  سے کاٹ کر ٹرالیوں پر لاد کر مل میں  لایا جاتا ہے۔ گنا کو ٹرالی  سے اتار کر  پہلے  ایک کٹر سے گزارا جاتا ہے پھر دوسرے  کٹر سے  گزار کر  شریڈر میں سے گزار لیا جاتا ہے۔ اس تمام عمل کا مقصد یہ ہے کہ گنا چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں یا ذروں میں تقسیم  ہوجائے تاکہ  اسے نچوڑ کر  زیادہ سے زیادہ رس نکالا جاسکے۔ گنا کو نچوڑنے کے لئے کرشر میں سے گزارا جاتا ہے جس کی بدولت  گنا میں  موجود  رس اور چھلکا الگ الگ ہوجاتے ہیں۔ شوگرانڈسٹری میں  اس الگ ہونے والے چھلکے کو بگاس کہتے ہیں جو کہ بعد ازاں  شوگر ملز میں  ہرطرح کی توانائی  کے حصول کوممکن بناتا ہے۔

            گنا کے  رس  اور چھلکے  کو الگ الگ  کرنے کے لئے جو مشینری استعمال ہوتی ہے اسے مل ہاؤس کہتے  ہیں۔مل ہاؤس سے حاصل کئے جانے والے اس  خام رس کو چھان  کر پروسیس ہاؤس بھجوا دیا جاتا ہے۔ جہاں  رس  مکمل  چینی کا دانہ  بننے  کے مختلف  مراحل  طے کرتا ہے۔

            سب سے پہلے رس کو قریباً پچتر ڈگری  سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر گرم  کر کے اس میں   چونے  کا محلول یعنی ملک آف لائم  ملایا جاتا ہے۔  اس کے بعد  دوبارہ  تقریباً  ایک سو پانچ ڈگری  گریڈ تک گرم کر کے رس کلیریفائر  میں ڈالا جاتا ہے جہاں  رس کے اندر  مختلف  فوڈ گریڈ کیمیکلز ڈالے جاتے ہیں جس کی بدولت  رس میں موجود  ہر قسم  کی کثافتیں نیچے بیٹھ جاتی ہیں اور صاف  رس اوپر  کی سطح پرآنے لگتا ہے۔

            کلیریفائر  سے حاصل  ہونے والے  صاف رس کو چھان  کر ایویپوریٹر ز میں بھاپ  کی مدد سے اُبالا جاتا ہے تاکہ رس  میں موجود  پانی  بخارات  بن کر علیحدہ ہوجائے۔ اس عمل  تبخیر  کی بدولت  رس گاڑھا ہو کر  شیرہ  بن جاتا ہے جسے بعد ازاں’’ را پین سٹیشن‘‘ پر  لایا جاتا ہے۔ یہاں گاڑھے شیرہ کو بھاپ  کی  مدد سے  گرمائش  دے کر چینی کے خام دانے یعنی’’را شگر کرسٹلز‘‘بنا لئے جاتے ہیں۔ ان ابتدائی چینی  کے دانوں کو شیرہ سے الگ کرنے کےلئے  ایک خاص قسم کی چھلنی  یعنی سینٹریفیوگل مشین میں سے گزار  لیا جاتاہے۔ یہاں  سے حاصل  ہونے والی بھورے رنگت کی دیسی چینی ’’اے شکر‘‘ کہلاتی ہے جبکہ  یہاں سے نکلنے  والے شیرہ کو دوبارہ دیسی چینی بنانے کےلئے استعمال  کیا جاتا ہے۔ اسے دوبارہ  سینٹریفیوگل  مشین میں سے گزار کر چینی  اور شیرہ  کو الگ الگ  کر لیا جاتا  ہے۔یہاں سے حاصل ہونے والی دیسی  چینی  ’’بی شکر‘‘  کہلاتی ہے۔

            سینٹریفیوگل مشینوں  سے حاصل ہونے  والی چینی  ’’اے‘‘اور’’بی‘‘ درجہ کی چینی  کو گرم پانی میں حل کر کے ایک محلول بنالیا جاتا ہے۔ جسے’’لکر‘‘ کہتے ہیں۔ اس ’’لکر‘‘ کو گرم کر کے اس میں مختلف فوڈ گریڈ کیمیکلز شامل کئے جاتے ہیں تاکہ  چینی  کی رنگت  سفید ہوجائے اور دیسی  چینی پر موجود کثافتوں کو الگ  کر دیا جائے۔ اس کے بعد ’’لکر‘‘ کو کلیریفائر میں ڈال  کر صاف  کر کے ڈیپ بیڈ فلٹر میں سے گزار کر چھان لیا جاتا ہے۔ ان تمام مراحل کے بعد چینی اپنی  تکمیل  کو پہنچنے لگتی ہے اور اسے ریفائن پین سٹیشن  پر لاکر  بھاپ دی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں گرم چینی  جسے ریفائنڈ شگر کہتے ہیں  بننے لگتی ہے۔

            اس ضمن میں  یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ریفائن پین  میں سفیدچینی بنانے کے دوران تما م ’’لکر‘‘ کو مکمل  طور پر چینی  کے دانوں میں  تبدیل نہیں  کیا جاتا بلکہ تقریباً آدھی نسبت سے دانے بنائے جات ہیں۔ اس’’فائن لکر‘‘ اور سفید  دانوں کے آمیزے  کو ریفائنڈ مَسکٹ کہتے ہیں۔

            ریفائنڈ مَسکٹ کو سینٹریفیوگل مشین میں سے گزار کر چھان لیا جاتا ہے جس سے سفید چینی اور شیرہ جو ’’رَن آف‘‘ کہلاتا ہے الگ الگ کر لئے جاتے ہیں۔ جب کہ یہاں سے حاصل  ہونے والی  چینی  کو گرم ہوا کی مدد سے سکھانے کے بعد مختلف  سائز کی چھلنیوں میں سے گزار کر باریک اور موٹے  دانے والی چینی کو علیحدہ کر لیا جاتا ہے۔

            آخر میں چینی کو بوریوں  میں ڈال کر گوداموں  میں منتقل کر دیا جاتا ہے تاکہ اسے فروخت کےلئے مارکیٹ بھجوایا جا سکے۔ اس طرح  گنا چینی بننے تک کا سفر طے کر لیتا ہے۔