ٹلہ جوگیاں

ٹلہ جوگیاں

ٹلہ جوگیاں، یعنی جوگیوں کی پہاڑی، جہلم کے شہر سے 25کلو میٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ سطح سمند ر سے 1000میٹر  بلند ، یہ سالٹ رینج  پہاڑی سلسلہ کی ایک الگ تھلگ واقع پہاڑی ہے۔اس کی چوٹی پر ، جو  پرانے زیتون،صنوبراور پھلائی کے درختوں سے ہری بھری ہے ، ایک قدیم عبادتگاہ کی باقیات موجود ہیں۔

اس کی تعمیر پہلی صدی قبل مسیح میں نامور گرو گورک ناتھ نے کروائی جو جوگیوں کے فرقہ’’کن پھٹا‘‘کے بانی بھی تھے۔ اس کے بعد یہ دو  ہزار سال تک قائم و دائم رہی اور آخر 1947ءمیں ہونے والی انسانی تاریخ   کی عظیم الشان نقل مکانی  کے بعد یہ ویران ہو گئی۔

16ویں صدی عیسوی میں  مغل بادشادہ اکبر اعظم  نے 4سالوں میں دو بار اس خانقاہ کا دورہ کیا  اور جوگیوں کی عادات و اطوار سے بہت متاثر ہوا۔ وہ اس عظیم  تعمیر ی دورسے بہت حیران ہوا۔

1748ء میں رہزن سردار ، احمد شاہ ابدالی نے اس عبادتگاہ پر حملہ کیا اور لوٹ مار کی۔ لیکن اس کے جانے کے کچھ ہی دیر بعد جوگی اور درویش واپس آگئے اور اسے دوبارہ تعمیر کیا اور اس قدیم درسگاہ کو از سرِ نو بحال کیا۔

1974ء میں، مَیں اپنے ایک دوست کے ہمراہ وہاں گیا اور وہاں قدیم، پراسرار اور بالکل ویران عمارتوں کا ایک سلسلہ پایا۔ ہم دونوں ہی چونکہ جوان اور لا علم تھے، لہٰذا ان عمارتوں کی صحیح عمر کا اندازہ نہ لگا سکے۔ لیکن اب میں بتا سکتا ہوں کہ یہ 18ویں صدی کے نصف سے لے کر بالکل ابتدائی دس سالوں  تک کی ہیں جب یہاں درویشی شروع ہوئی، جبکہ کچھ باقیات تو اس سے بھی پہلےکی موجود ہیں۔

وہاں ایک عمارت 19ویں صدی  کی آخری دہائی کی بھی موجود تھی۔ یہ انگریزی حکومت کے زمانے کا ایک بنگلہ تھا ، جوبطور ریسٹ ہاؤس ڈپٹی کمشنر اور اس کے ملازمین کی رہائش کے لئے اپریل سے اگست تک استعمال ہوتا تھا  جب انتظامیہ اس ٹھنڈے پہاڑی علاقے پر نقل مکانی کرتی تھی۔مَیں 1986ء میں دوبارہ وہاں گیا، لیکن کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ریسٹ ہاؤس گرا کر ایک نئی عمارت تعمیر کر دی گئی ہے۔ دو سال بعد، یہ عمارت بھی کھنڈر بن گئی ، اس کے دروازے اور کھڑکیوں کی توڑ پھوڑ کی گئی تھی اور عمارت کے اندر سے لوٹ کھسوٹ کی گئی تھی ویسے ہی جس طرح ابدالی نے دو سو سال قبل کیا تھا۔

اس کے بعد ، میں یہاں بار بار واپس آیا، ہر بار پہلے سے زیادہ ان کھنڈرات کا معائنہ کیا۔ مَیں نے غور کیا کہ وہ دو درجن سمادھ جو اکبر کے ٹینک کے ساتھ ،مَیں نے اور میرے دوست نے 1974ء میں دیکھی تھیں انہیں ایک خاص منظم طریق پر تباہ کیا جا رہا تھا۔ 1990ء کے آخر میں مَیں نے دیکھا دو مندروں کے فرش اکھیڑ دئیے گئے تھے۔ اس وقت ، چونکہ میں اس تباہی کی اصل وجہ سمجھنے کی عقل نہیں رکھتا تھا، میں نے اسے ا س نفرت سے جوڑدیا جو ہم غیر مسلموں کی بنائی ہوئی قدیم عمارتوں کے بارہ میں رکھتے ہیں۔

حقیقت مجھے اس وقت پتہ چلی جب محض اتفاق  سے میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہو گئی جو پرانے سکے بیچ رہا تھا۔ اس نے کہا کہ اسےیہ سکے ٹلہ جوگیاں کی کسی عمارت سے ملے تھے۔ اس وقت مجھ پر عقدہ کھلا کہ یہ نئے زمانہ کا ابدالی ہے، ایسے بہت سوں میں سے ایک جو کہ اس عبادتگاہ کو برباد کرنے میں لگے تھے۔

نئی صدی آتے ہی ، ٹلہ جوگیاں کے لئے مخصوص اس غصہ  میں یکدم اضافہ ہو گیا۔ ایک چھوٹی اور خوبصورت سے گنبد والی عمارت جو سب سے اہم مندر کے دالان کے داخلی دروازے پر ایک عالیشان زیتون کے درخت کے سایہ میں واقع تھی ، اس کی چھت کو ملیا میٹ کر دیاگیا تھا۔مَیں اس عمارت  کا اپنے پہلے 1974ء کے دورہ سے ہی بہت مدّاح تھا اور مَیں جانتا تھا کہ یہ تباہی قدرت کی طرف سے نہیں ہوئی بلکہ کسی نئے زمانہ کے ابدالی کے ظالمانہ ہاتھوں ہوئی ہے جو خزانہ کی کھوج میں آیا اور نہ پا سکا۔

سب سے دلخراش واقعہ 2004کے اواخر میں پیش آیا۔ پہاڑ ی کے مغربی کونے  پر ایک عمارت ہے جو کہ جناح کے کراچی والے مزار کی یاد دلاتی ہے۔ یہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ  میں بنائی گئی تھی تاکہ اس جگہ کو یادگار بنایا جاسکے جہاں گرونانک دیو  نے اپنی چالیس دن کی عبادت  و توبہ کی تھی۔

سب سے پہلے تو شمالی دیوار میں ایک سوراخ کیا گیا اورگنبد کا کچھ حصہ ٹوٹ گیا۔ 2005ءکے اختتام  تک تباہی بہت بڑھ گئی اور فرش بھی اکھیڑ دیا گیا ۔ مَیں نے سوتی ہوئی بیوروکریسی کو بیدار کرنے کی بہت کوشش کی مگر بے سود۔

اور یہ ابھی بھی جاری ہے۔ لٹیروں کو کھلی چھوٹ ہے کہ وہ جو چاہیں  پاکستان کی سب سے قدیم اور تاریخی عبادتگاہ  کے ساتھ کریں۔ اور کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔

وہ شریر لوگ جو ان عمارتوں کی تباہی کے ذمہ دار ہیں انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ وہ جو جوگی بنے ، انہوں نے سب دنیاوی ساز و سامان کو چھوڑ کر اس فقیری کی زندگی کو اختیار کیا۔ وہ اپنی دولت اس ٹلہ پر نہیں لائے تھے بلکہ وہ تو غربت کی حالت میں یہاں آئے تھے۔ چند کم قیمت سکےجو کسی لالچی بیوقوف انسان کے ہاتھ لگے وہ محض اتفاق تھا۔

لیکن ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ یہ ملک ہماری لئے ویسے ہی ہے جیسے یہ احمد شاہ ابدالی کے لئے تھا یعنی لوٹ مار اور تباہ کرنے کے لئے ایک دوسرا ملک۔