لالیاں میں حقہ سازی-Huqqah Art Of Laalian

 فوٹو گرافی:سلمان رشید
حقہ پنجابی زبان میں پانی کے اس برتن کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس کے اوپر خول نما کوئی چیز ہو برصغیر کو حقہ کا آبائی وطن قرار دیا جاتا ہے۔ علاقہ اور دستیابی کی بناءپر حقہ کو مختلف نام دیئے گئے ہیں انہی ناموں میں سے ایک نام نرگیلا  ہےجو کہ لبنان ،شام،عراق،اردن،آرمینیا،بلغاریہ اور رومانیہ وغیرہ میں رائج ہے ۔نرگیلا فارسی لفظ نارگیل سے نکلا ہے جس کے معنی ناریل کے ہیں جبکہ سنسکرت میں اس کو نرکیلا کہا جاتا ہے اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ابتدائی دنوں میں حقہ ناریل کے چھلکوں سے بنایا جاتا تھا ۔
وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ اس  کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا اور حقہ کی بناوٹ اور ساخت میں بھی جدت آتی گئی غرباءعام طور پر مٹی کےبنے ہوئے چلم اور حوض استعمال کرتے تھے جن میں بانس سے بنی نڑی استعمال ہوتی تھی اس کے برعکس امراء دھاتی حقہ استعمال کرتے تھے جس میں ربڑ کی نالی استعمال ہوتی تھی ۔پاکستان کا علاقہ لالیاں قدیم دور سے حقہ سازی کےفن کے لئے مشہور ہے ایک دیہاتی کا حقہ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اپنی خوبصورت تکمیل کو پہنچتا ہے۔
  فوٹو گرافی:سلمان رشید
 مٹی کا برتن جسے چلم بھی کہتے ہیں،یہ برتن لکڑی یا ربڑ کے پائپ کے ساتھ جڑا ہوتا ہے ۔دھات کے بنے ہوئے حقہ میں تقریباً   6ملی میٹر موٹے چمڑے سے بنائی گئی ایک کُپی نصب کی جاتی ہے تاکہ وہ پانی کو اکٹھا کر سکے ۔مٹی کے حقےبالخصوص بھلوال اور دھاتی خوبصورت حقے بالخصوص گجرات میں بھی تیار ہوتے ہیں ۔مٹی کے حقہ کو خوبصورت بنانے کے لئے اس پر رنگ روغن بھی کیا جاتاہے
دھاتی حقہ عموماً تانبہ اور پیتل سے بنایا جاتا ہے ۔یہ حقہ اپنے مختلف مراحل ایک لوہار کے پاس طے کرتا ہے وہ اس کے چھوٹے چھوٹے حصوں کو تراش خراش کر تیار کرتا ہے اس کے بعد اس دھاتی حقہ پر خوبصورت نقش و نگار کندہ کئے جاتے ہیں جو کہ پہلے سے نصب کئے گئے تانبہ کے ٹکڑوں کو آپس میں ملا دیتے ہیں۔اس کے بعد حقہ کے نچلے حصہ میں ایک گھومنے والی بنیاد بنا دی جاتی ہے ۔
فوٹو گرافی:سلمان رشید
حقہ کی تیاری میں ایک خاص قسم کا باریک بانس استعمال ہوتا ہے جسے نڑی کہتے ہیں ۔پاکستان میں یہ نڑی چین سے درآمد کی جارہی ہے ۔حقہ کے ایک حصہ میں اس نڑی کو آگ کی گرمائش کے ذریعہ گولائی دی جاتی ہے ۔پاکستان میں یہ کام عموماً فیصل آباد میں کیا جاتا ہے ۔اس کے بعد اس کو ایک پرانے اونی کپڑے کے ذریعہ لپیٹ دیا جاتا ہے ۔یہ کپڑا نڑی پر لپیٹنا ایک خاص مہارت کا کام ہے ۔کاریگر اپنے ہاتھ اور ٹانگ کی مدد سے اس کونڑی پر لپیٹ دیتا ہے ۔اس کے بعد اس کے آخری حصہ کو ایک کُپی کی شکل دیتا ہے جوکہ حقہ کے کنارہ پر لگا دی جاتی ہے اور دوسرا حصہ چلم میں لگا دیا جاتا ہے ۔حقہ میں موجود دوسری نڑی پر چلم رکھی جاتی ہے جس کو سب سے پہلے ایک باریک اور لمبے ریتی نما اوزار سے صاف کیا جاتا ہے اور بھر اس کو نقش و نگار کے بعد حقہ میں لگا دیاجاتا ہے ۔
نسبتاًکم قیمت حقہ کی نڑی پر مختلف رنگوں کی ریکسین استعمال کرکے اس کو دیدہ زیب بنایا جاتا ہے ۔ریکسین پر مختلف ڈیزائن بنا کر اس کو سوتی دھاگہ کی مدد سے نڑی پر چسپاں کردیا جاتاہے۔
اس کے بعد نائلون کی ڈوری سے اس کے کناروں کو مضبوط کرلیا جاتاہے جسے ’’نیچا‘‘لگانا کہتے ہیں ۔یہ نائلون کی ڈوری حقہ کی خوبصورتی میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔
اعلیٰ معیار حقہ کی نڑی پر بکرے کا چمڑا استعمال کیا جاتاہے ۔چمڑے کو رنگنے کے بعد مختلف اوزاروں سے اس کی صفائی کرنے کے بعد انتہائی مہارت کے ساتھ باریک دھاریاں کاٹ کر نڑی پر لگا دی جاتی ہیں ۔
محمد سیف اللہ لالیاں کا ایک مشہور حقہ فروش ہے ۔اسکا کہنا ہےکہ 20سال قبل یہاں چار پانچ گنا زیادہ کاروبا ر ہوا کرتا تھا مگر آ ج کے دور میں لوگ کم سے کم قیمت حقہ کی خریداری کو ترجیح دیتے ہیں ۔
سیف اللہ کا خیال ہے کہ اس کا کاروبار توچلتا رہے گامگر خوبصورت حقہ بنانے کی صنعت جس کے لئے لالیاں کسی وقت مشہور تھا آہستہ آہستہ ناپید ہوجائے گی  ۔
Handmade Pakistani Khussa Art || Chiniot || کھسّہ